اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
کلچرل ہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومینٹ کے پریزرویشن کے معاملے میں اسلام کی رائے بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن کی ہے۔ بالفرض اگر کسی مسلم ملک میں کوئی مانیومینٹ ایسا ہو جس کو کسی بنا پر ملک کے اندر رکھنا مناسب نہ ہو تو ایسی حالت میں اس کو تباہ نہیں کیا جائے گا بلکہ خواہش مند قوموں اور ملکوں کو اسے ایکسپورٹ کر دیا جائے گا تا کہ وہ اس کو اپنے میوزیم میں محفوظ کر سکیں۔ افغانستان (بامیان) میں 2001ء، گوتم بدھ کے مجسموں کو جس طرح توڑا گیا وہ ہرگز اسلام نہ تھا، وہ غلو (extremism) تھا اور قرآن اور حدیث کے مطابق غلو اسلام میں نہیں۔ (الرسالہ، اپریل (2007) کفر اور کافر کا مسئلہ بیسویں صدی میں کمیونسٹ نظریہ بڑے پیمانہ پر ساری دنیا میں پھیلا۔ اس کے تحت انسانی سماج کو دو طبقوں میں بانٹ دیا گیا۔ ایک محنت کش طبقہ (working class) اور دوسرا بورژوا طبقہ۔ بورژوا (bourgeois) ایک فرانسیسی لفظ ہے۔ یہ لفظ اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے متوسط طبقہ کے لیے بولا جاتا تھا۔ مگر مارکسی فلسفہ کے زیر اثر وہ ایک تحقیری (derogatory) لفظ بن گیا۔ اس نظریہ کے تحت سماج دو طبقوں میں بٹ گیا۔ ایک محنت کش طبقہ جو ہر اعتبار سے معصوم طبقہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader