کفر اور کافر کا مسئلہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
حیثیت رکھتا تھا اور دوسرا بورژوا طبقہ جو مارکسی تصور کے مطابق سرمایہ دار طبقہ (capitalist class) کے ہم معنی تھا اور جو مارکس کے مطابق ، ہر قسم کی سماجی اور اقتصادی برائی کی جڑ تھا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ کافر کے لفظ کے ساتھ پیش آیا ہے۔ کافر کا لفظ ابتدائی طور پر صرف ایک سادہ مفہوم رکھتا تھا۔ لغوی اعتبار سے کافر کے معنی ہیں انکار کرنے والا۔ مگر بعد کے زمانہ میں کافر کا لفظ ایک تحقیری لفظ (derogatory word) بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں نظری اعتبار سے یہ غالباً مسلم اور غیر مسلم کے درمیان سب سے بڑا نزاعی مسئلہ ہے جس سے موجودہ زمانہ کے مسلمان دوچار ہیں۔ ایک مثال سے اس معاملہ کی وضاحت ہوگی۔ اقبال کا خاندان پہلے ایک برہمن خاندان تھا۔ بعد کو وہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقبال نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے : مرا بنگر که در هندستان دیگر نے بینی برہمن زاده رمز آشنائے روم و تبریز است اس شعر میں برہمن زادہ کا لفظ سننے والوں کو بُرا نہیں لگتا۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے برہمن زادہ اور کافر زادہ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ لیکن اگر اقبال کے اس شعر کو بدل کر اس طرح کہا جائے : کافرزاده، رمز آشنائے روم و تبریز است اگر شعر میں تبدیلی لائی جائے تو تمام اقبال پسند لوگ غصہ ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader