Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

کفر اور کافر کا مسئلہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

کیونکہ برہمن ایک سادہ لفظ ہے، جب کہ کافر استعمال کے اعتبار سے ایک تحقیری لفظ بن گیا ہے۔ کمیونسٹ اور بورژوا کی تقسیم نے بیسویں صدی میں غیر کمیونسٹ دنیا کو کمیونسٹ لوگوں سے متنفر کر دیا تھا۔ یہی معاملہ اب مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے مومن اور کافر کی تقسیم نے غیر مسلم دنیا کو مسلمانوں سے بیزار کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ اب اشوک سنگھل اور پرووین تو گڑیا جیسے لوگ یہ مانگ کرنے لگے ہیں کہ اسلام پر نظر ثانی کرو اور کافر کے لفظ کو اسلام کی لغت سے خارج کرو۔ جب تک اسلام میں ریفارم نہ لائی جائے مسلم اور غیر مسلم معتدل طور پر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اشوک سنگھل اور پرووین تو گڑیا جیسے انتہا پسند لوگوں کا نہیں ہے، بلکہ اب وہ خود مسلمانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ آج کے صنعتی سماج میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں تعلیم یافتہ مسلمان عام طور پر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ کافر کے روایتی تصور کے ساتھ مشترک سماج میں معتدل طور پر نہیں رہ سکتے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام نے موجودہ زمانہ میں اپنا ریلیونس (relevance) کھو دیا ہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے اسلام کو لے کر وہ آج کے سماج میں عزت کے ساتھ کس طرح رہیں۔ دہلی میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ ان سے اکثر میری ملاقات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page