کفر اور کافر کا مسئلہ
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتی رہتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میری پیدائش اگر چہ مسلمان کے گھر میں ہوئی مگر اب اسلام پر میرا عقیدہ باقی نہیں رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا مذہب ڈیموکریسی ( جمہوریت ) ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام انسانیت کو مومن اور کافر کے دونا مساوی طبقوں میں بانٹتا ہے۔ جب کہ ڈیموکریسی سارے انسانوں کو برابر کا درجہ دیتی ہے۔ انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا کہ میرے یہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوگا تو میں اس کے کان میں اذان نہیں دلواؤں گا بلکہ کسی پروفیسر کو بلاؤں گا جو بچہ کے کان میں کہے گا ڈیموکریسی، ڈیموکریسی ڈیموکریسی۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر کا مسئلہ صرف غیر مسلم لوگوں کا مسئلہ نہیں۔ اب جدید سماج میں وہ بڑے پیمانے پر خود مسلمانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے اور اس کے صحیح مفہوم کو سامنے لایا جائے تا کہ اسلام لوگوں کو وقت کا مذہب معلوم ہو اور مسلم اور غیر مسلم دونوں جدید سماج میں معتدل طور پر دوسروں کے ساتھ رہ سکیں۔ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ سارا معاملہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔ رواجی تصور میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کافر اور غیر مسلم دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ جو لوگ مسلمان نہیں وہ سب کے سب کافر ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غلط تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر کا لفظ غیر مسلم کے مترادف نہیں : The word Kafir is not synonymous with non-Muslim.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader