داعی اور مدعو کا رشتہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
داعی اور مدعو کا رشتہ شریعت کے اعتبار سے مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلم کی حیثیت مدعو کی ۔ یہ رشتہ لازم کرتا ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق قائم رکھے ۔ کہا جاتا ہے کہ تاجر کو ہمیشہ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly ) ہونا چاہیے ۔ اسی طرح داعی کا فارمولا یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہمیشہ مدعو فرینڈلی ہو۔ Be always Mad'u friendly. مدعو کے حق میں داعی کے اندر خیر خواہانہ جذبات ہونے چاہئیں ۔ اگر داعی کے اندر مدعو کے لیے یہ مطلوب جذبات موجود ہوں تو وہ ہرگز اس کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ ایسے الفاظ بولے جس سے مدعو کے دل میں اس کے خلاف نفرت پیدا ہو جائے ۔ حتی کہ اگر وہ سچا داعی ہے تو اپنے دل میں بھی وہ ایسی بات نہیں سوچے گا۔ دعوت کا جذبہ نفرت کا قاتل ہے ۔ داعی کا دل ایک دردمند دل ہوتا ہے ۔ ایسے دل کے اندر محبت اور خیر خواہی کے سوا کوئی اور چیز پرورش نہیں پا سکتی۔ قدیم زمانہ میں آرین لوگ جب انڈیا میں آئے تو یہاں کے مقامی لوگوں کو انہوں نے ملچھ کہا ۔ اسی طرح مسیحی علما نے مسلمانوں کو اپنی کتابوں میں انفڈل (infidels) لکھا۔ ملچھ اور انفڈل دونوں تحقیری الفاظ (derogatory

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader