Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

داعی اور مدعو کا رشتہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

words) ہیں۔ کہنے والا ان الفاظ کو بول کر خوش ہوتا ہے مگر جس کے بارے میں یہ لفظ بولا گیا ہے وہ اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جن میں کوئی تحقیری مفہوم (derogatory sense) نہ ہو، بلکہ وہ سادہ طور پر صرف اظہار واقعہ کے ہم معنی ہو۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں مسلم علما احتیاط کا پہلو اختیار نہ کرسکے۔ وہ اپنی کتابوں میں اور قرآن کے ترجموں میں کافر کے لیے بے تکلف انفلڈ کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے: Say thou: O ye infidels(!109:1) دراصل مسلم علما اور رہنماؤں کی اسی قسم کی غیر احتیاطی باتیں ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سخت تناؤ پیدا ہو گیا ہے جس کا نتیجہ مختلف ناخوشگوار صورتوں میں سامنے آتا رہتا ہے۔ یہی غلطی قرآن کے اردو اور فارسی مترجمین نے بھی کی ہے۔ قرآن کے بہت سے ترجمے شائع ہوئے ہیں۔ مگر غالباً صرف ایک مترجم (شاہ عبد القادر) کو چھوڑ کر تمام مترجمین نے اس معاملے میں بے احتیاطی کا انداز اختیار کیا ہے۔ ”قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ کے کچھ ترجمے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: بگواے کافراں (شاہ ولی اللہ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page