Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

داعی اور مدعو کا رشتہ

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کہو اے کافرو ( شاہ رفیع الدین ) آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے ( اشرف علی تھانوی ) کہہ دو کہ اے کافرو ( ابو الاعلی مودودی ) کہہ دو ، اے کافرو ( امین احسن اصلاحی ) تو کہہ ، اے منکرو ( شاہ عبد القادر ) اس قرآنی آیت کے تحت اکثر مترجمین نے اسی قسم کے ترجمے کیے ہیں۔ اس آیت میں کافر کا ترجمہ درست نہیں ۔ بالفرض وہ خالص لغوی اعتبار سے غلط نہ ہو تب بھی وہ دوسری قوموں کے لیے ایک قابل اعتراض لفظ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ترجمہ سے احتراز کیا جائے۔ پھر یہ صرف ترجمہ کی بات نہیں اسی ترجمہ کی بنیاد پر ذہن بنتا ہے اور تقریر و تحریر میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ترجمہ پوری ملت کی منفی ذہن سازی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ ترجمہ ہم اور وہ (we and they) کا ذہن پیدا کرتا ہے اور اس قسم کا تقسیمی ذہن دعوتی اعتبار سے درست نہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا۔ غالباً ایک ہی عالم ہیں جنہوں نے قرآن کے ان الفاظ کا درست ترجمہ کیا ہے اور وہ شاہ عبد القادر دہلوی ہیں۔ شاہ عبد القادر صاحب کا اردو ترجمہ تمام علما کے نزدیک نہایت مستند مانا گیا ہے۔ انہوں نے مذکورہ آیات کا ترجمہ منکر کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page