اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملہ میں فعل اور فاعل کے درمیان فرق کرنا لازمی طور پر ضروری ہے ۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے کہ وہ مشخص طور پر فاعل کا اعلان کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان صرف ایک بار قدیم منکرین قریش کے بارے میں کیا ہے جن کے اوپر پیغمبر نے براہ راست اتمام حجت کیا تھا۔ بقیہ انسانوں کے بارے میں وہ آخرت میں اعلان فرمائے گا۔ ہمارا کام صرف دعوت دینا ہے، نہ کہ لوگوں کے کافر ہونے کا اعلان کرنا۔ کریڈٹ کا مسئلہ کافر یا منکر کا لفظ بیک وقت دو کردار سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک وہ جس نے کوئی بات پیش کی ہو۔ دوسرا وہ جس نے اس پیش کی ہوئی بات کا انکار کیا ہو۔ ان میں سے ایک کردار کو دائی کہہ سکتے ہیں دوسرے کردار کو مدعو کہہ سکتے ہیں۔ کافر ایک انفرادی کردار ہے، کافر کسی گروہ کا قومی لقب نہیں۔ کسی گروہ کو کافر قرار پانا ایک بے حد غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کا مطلب ایک کو انکار کی بنا پرڈس کریڈٹ (discredit) کرنا اور دوسرے کو اس کے دعوتی عمل کی بنا پر کریڈٹ دینا ہے۔ اس کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ کا یہ معاملہ فتویٰ یا بیان کے ذریعہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ دعوتی محنت کا طالب ہے۔ اس دعوتی محنت کا معیاری نمونہ پیغمبر اسلام ﷺ کا تیرہ سالہ مکی دور ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ کے لوگوں میں دعوتی کام کا آغاز کیا تو آپ کے خطاب کے الفاظ یہ تھے: يٰٓأَيُّهَا الْإِنْسَان اس طرح تیرہ سال لوگوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader