Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

بحیثیت انسان خطاب کرنے کے بعد جب لوگ جان بوجھ کر انکار پر قائم رہے تو آخر میں قرآن کی یہ آیت اتری: قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُوْنَ ۔ اس وقت بھی یہ ایک براہ راست خدائی اعلان تھا، نہ کہ خود پیغمبر کا اپنا خطاب۔ اس اصول کے مطابق ہندوستان کے ہندو یا دوسرے ملکوں کے غیر مسلم کی حیثیت اسلامی نقطۂ نظر سے صرف انسان کی ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی کافر یا کفار نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ ہندوؤں اور موجودہ زمانہ کے دوسرے غیر مسلموں پر یہ ضروری شرط پوری نہیں ہوئی کہ انہیں مکی معیار کی تیرہ سالہ دعوت دی جائے اور وہ پھر بھی انکار کریں۔ اسی طرح انہیں منکر قرار دینا بھی درست نہیں۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جونزاعات ہیں اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے بارے میں جو شکایتیں ہیں وہ سب کی سب قومی اور مادی ہیں۔ یہ تمام تر اسی طرح کے دنیاوی جھگڑے ہیں جو خود غیر مسلم گروہوں میں ایک دوسرے کے خلاف پیش آتے ہیں۔ ان نزاعات کو کافر اور مسلم کے درمیان دینی نزاع نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کو دو گروہوں کے درمیان دنیوی نزاع کہا جائے گا۔ ان قوموں پر اتمام حجت کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ان سے ان دنیوی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں۔ کفر کا تحقق کسی شخص کے بارے میں کب یہ متحقق (establish) ہوگا کہ وہ منکر یا انکار کرنے والا بن چکا ہے۔ اس سوال کا جواب خود قرآن میں موجود ہے۔ جیسا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page