کفر کا تحقق
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ معلوم ہے قرآن کے نزول کا آغاز 610ء میں مکہ میں ہوا۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ قرآن کے ذریعہ مکہ کے لوگوں تک توحید کی دعوت پہنچاتے رہے۔ اس دعوتی مہم میں آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنے مخاطبین کو کافر کہہ کر خطاب کریں۔ اس دوران میں جو آیتیں اتریں ان سب میں انسان جیسے الفاظ تھے۔ آپ نے انہیں اپنی قوم کا حصہ قرار دیتے ہوئے اپنا پیغام پہنچایا۔ دعوت کی یہ مہم آپ نے اس طرح چلائی کہ آپ گہرے طور پر ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ نے ان کی ایذاؤں پر یک طرفہ صبر کیا۔ آپ نے ان سے کسی بھی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ آپ نے ان سے کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے آپ کے اور ان کے درمیان مادی نوعیت کا کوئی نزاع قائم ہو جائے ۔ آپ یک طرفہ طور پر ہمیشہ ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ کو ان کی طرف سے طرح طرح کی مصیبتیں پہنچیں مگر آپ ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہے۔ دعوت کی یہ صبر آزما جد و جہد تیرہ سال تک چلتی رہی۔ تیرہ سال کے بعد بھی پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی زبان سے ان کے لیے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت اتری کہ: قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ (تم کہہ دو کہ اے انکار کرنے والو)۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرانہ معیار کی تیرہ سال کی جد و جہد کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ مخاطبین کا انکار ثابت ہو جائے اور ان کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اے انکار کرنے والو۔ اس قسم کے دعوتی کورس سے پہلے کسی کو منکر یا کافر قرار دینا جائز نہیں۔ اب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader