Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ پیغمبرانہ معیار کی تیرہ سالہ جدوجہد کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ کسی کو کافر یا منکر قرار دیا جا سکے تو عام لوگوں کے لیے تو ایک سو تیرہ سال کی مدت بھی اس کام کے لیے نا کافی ہوگی۔ کفر کی اصطلاح مکی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اتریں جن کا تعلق بیرون عرب کے غیر مسلموں سے تھا۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 30 کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے، جو وقتی طور پر ایرانیوں سے مغلوب ہو گئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ: غُلِبَتِ الْكُفَّارُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (روم کے کفار جو مغلوب ہو گئے ہیں )۔ بلکہ یہ فرمایا کہ: غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ (30:2-3)۔ یعنی ، رومی جو مغلوب ہو گئے ہیں۔ اسی طرح سورہ نمبر 105 میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر کریم کے ایک کا فر حکمراں کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اصحاب فیل کے لفظ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ قدیم مکہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کے بعد اس زمانے کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ مثلاً ہجرت کے بعد رسول صلى الله علیہ اور آپ کے اصحاب رضی اللہ نہم مدینہ آئے تو انہوں نے یہاں کے لوگوں کو کافر کے لفظ سے خطاب نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یثرب پہنچ کر وہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page