کفر کی اصطلاح
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لوگوں کو جو پہلا خطاب کیا۔ اس میں آپ نے انہیں۔ اَیُّھَا النَّاسُ، اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ (اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو) کے لفظ سے خطاب کیا، اسی طرح مدینہ کے باہر ملک کے اطراف میں بہت سے غیر مسلم قبیلے موجود تھے۔ مگر ان کو بھی کافران عرب یا کافر قبائل کا نام نہیں دیا گیا۔ بلکہ ان کے معروف نام سے انہیں پکارا گیا۔ مثلاً اہل ثقیف، اہل نجران اور اہل بحرین وغیرہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ اول میں اہل اسلام جب عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف مذہب کے ماننے والے لوگ آباد تھے۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا کہ ان غیر مسلموں کو کافر کے نام سے پکاریں۔ انہوں نے ہر ایک کو اس کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارا۔ مثلاً شام کے مسیحیوں کو مسیحی کہا، فلسطین کے یہودیوں کو یہودی کہا، ایران کے مجوسیوں کو مجوسی کہا، افغانستان کے بودھوں کو بودھ (بودّی ) کہا، وغیرہ۔ اسی طرح دورِ اول کے یہ مسلمان جب ہندوستان آئے تو یہاں بھی انہوں نے یہی کیا۔ انہوں نے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا جو سندھو کا عربی تلفظ ہے۔ ابوالریحان البیرونی (وفات 1048ء) نے ہندوستان کا سفر کیا۔ اس نے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوستان کے بارے میں ایک عربی کتاب "تاریخ الہند" لکھی۔ اس میں وہ یہاں کے غیر مسلموں کو ہندو کہتا ہے، نہ کہ کافران ہند۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader