اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہی رواج باقی رہا۔ اب بھی کثرت سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ بقیہ دنیا میں یہی رواج بالفعل قائم ہے۔ مسلمان امریکہ اور یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ وہاں ان کا سابقہ غیر مسلم قوموں سے پڑتا ہے۔ مگر ہر ایک کو وہ ان کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارتے ہیں وہ انہیں کافر یا کفار نہیں کہتے۔ چند تاریخی مثالیں جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایہا الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرین مکہ کے لیے آئی ہے، اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد ۔ منکرین مکہ کے سوا کسی اور کو اس طرح مشخص (specific) انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ یا أَیُّهَا الْكُفَّارُ (اے منکرو) ۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری: يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ (82:6)۔ یعنی ، اے انسان، تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ہجرت کے بعد صحیفہ مدینہ کا ایک جملہ یہ تھا: لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ (سیرت ابن ہشام ، جلد 1، صفحہ 503) ۔ یعنی، یہود کے لیے یہود کا دین اور مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین۔ ایسا نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader