چند تاریخی مثالیں
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوا کہ لکھا جائے: لِلْكُفَّارِ دِينُهُمْ وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ (منکرین کے لیے منکرین کا دین اور مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین)۔ فتح مکہ کے بعد عرب کے مشرک قبائل کے وفود رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے گفت و شنید کے لیے مدینہ آئے۔ مگر یہاں بھی خطاب کا انداز یہی تھا۔ مثلاً یمن کے لوگ مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا کہ: أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 586)۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ: أَتَاكُمْ كُفَّارُ الْيَمَنِ ۔ اسی طرح رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اطرافِ عرب کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کیے ان کا انداز بھی یہی تھا۔ مثلاً آپ نے رومی حکمران کو جو خط لکھا اس کا پہلا جملہ یہ تھا: مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّوْمِ (البدایہ والنہایہ، جلد 4، صفحہ 302)۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں لکھا کہ: إِلَى هِرَقْلَ كَافِرِ الرُّوْمِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7)۔ صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَكَافَّةً، فَأَدْعُوا (عَنِّي) يَرْحَمْكُمُ اللَّهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 607)۔ یعنی، اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام دنیا کے لیے رحمت بنایا ہے، تو تم لوگ میری جانب سے اس کو پہنچاؤ اللہ تم پر رحمتیں نازل فرمائے۔ اس میں بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي كَافَّةً لِلْكُفَّارِ (اللہ نے مجھے تمام منکرین کے لیے مبعوث کیا ہے)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صحابہ کی فوج ایران میں داخل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader