چند تاریخی مثالیں
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئی تو روایات کے مطابق وہاں ایران کے غیر مسلم حکمران کو خطاب کرتے ہوئے ایک صحابی نے اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا: لُنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 520)۔ یعنی، تاکہ ہم ان انسانوں کو، جو اس کو پسند کریں، انسانوں کی عبادت سے اللہ کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہیں: لُنُخْرِجَ الْكُفَّارَ مِنْ عِبَادَةِ الْكُفَّارِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (تاکہ ہم ان منکرین کو منکرین کی عبادت سے اللہ کی عبادت کی طرف لے آئیں)۔ اس طرح دور اول کے مسلمان جب عرب سے نکل کر بیرونی ملکوں میں پھیلے، تو کسی بھی ملک میں انہوں نے لوگوں کو کافر یا کفار کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا، بلکہ ہر قوم کو اسی لفظ سے خطاب کیا جس لفظ کو اس نے خود اختیار کر رکھا تھا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، مجوس کو مجوس، بودھ کو بودھ وغیرہ۔ کافر کا تحقق اس وقت ہوتا ہے جب کہ متعلقہ شخص کے اوپر کامل اتمام حجت کیا جا چکا ہو اور اس اتمام حجت کا ماڈل صرف ایک ہے۔ اور وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مکہ کی تیرہ سالہ دعوتی جد و جہد ہے۔ یہ تیرہ سالہ دعوتی عمل ہمیشہ کے لیے دعوت یا اتمام حجت کے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ اتمام حجت کے بعد بھی متعین طور پر کسی کے کافر ہونے کا اعلان خدا کی طرف سے ہوگا، نہ کہ داعی کی طرف سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader