Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

قریش کی مثال

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

قریش کی مثال پیغمبر اسلام ﷺ کے سال پیدائش 570 میں ایک بڑا واقعہ ہوا۔ یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے ایک بڑی فوج کے ساتھ مکہ کی طرف اقدام کیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ کعبہ کو ڈھا دے۔ مگر اللہ کی خصوصی مدد کی بنا پر اسے کامیابی نہیں ملی۔ قرآن کی سورہ نمبر 105 میں اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ 610ء جب پیغمبر اسلام ﷺ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو نزول قرآن کے اس ابتدائی زمانہ میں قرآن کی سورہ نمبر 106 اتری۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: اس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس۔ تو اُن کو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے ان کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے ان کو امن دیا۔ (106:1-4) اس سورہ میں قریش کو صرف قریش کہا گیا نہ کہ کفار یا کفار قریش۔ پیغمبر اسلام ﷺ توحید کے داعی تھے۔ آپ نے مکہ میں اپنی دعوت شروع کی تو مسلسل تیرہ سال تک اسی انداز میں لوگوں کو پکارتے رہے کہ اے قریش کے لوگو! اے انسانو! اے میری قوم! پر امن دعوتی مہم کی اس پوری مدت میں آپ نے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ فریق ثانی کی طرف سے ہر قسم کی زیادتیان کی گئیں۔ لیکن ان کے لیے آپ کی خیر خواہی کا جذبہ ختم نہیں ہوا۔ اُن کی ایذاؤں پر یک طرفہ صبر کرتے ہوئے آپ نے اپنی پر امن دعوتی جدو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page