Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص اپنے جسم کے کپڑے کو پھاڑ کر اس کے 72 ٹکڑے کر ڈالے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے۔ مگر جن لوگوں نے خدا کے دین کو متفرق کر کے اس کو 72 کے ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے وہ پاگل ہی نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ ایسے لوگ دینداری کا انعام نہیں پا سکتے۔ البتہ یہ اندیشہ ہے کہ ان کو خدا کے دین کو بگاڑنے والا قرار دے کر آخرت میں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا جو حال ہے، وہ اس آیت کا مصداق ہے جو قرآن میں یہودیوں کے بارے میں آئی تھی: فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمُ زُبُرًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (23:53)۔ یعنی، انہوں نے دین کو اپنے درمیان ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو ہے وہ اس پر خوش ہے۔ (الرسالہ، مئی 1984) غلو کیا ہے غلو کا لفظی مطلب ہے انتہا پسندی (extremism)، یعنی کسی حکم شرعی میں مطلوب حد سے تجاوز کرنا۔ حد سے تجاوز کرنے کی یہ سوچ کب پیدا ہوتی ہے۔ یہ دراصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا نتیجہ ہوتا ہے، یعنی جس چیز پر جتنا زور دینا چاہیے، اس پر اس سے زیادہ زور دینا۔ مثلاً اسلام میں سیاست کا مقام صرف جزئی یا اضافی ہے، مگر اس کو اتنا بڑھانا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page