اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
جہد جاری رکھی۔ آخر کار تیرہ سال بعد قرآن میں سورہ نمبر 109 اتری۔ اس میں پہلی بار خدا کی طرف سے ان الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ: قُلْ يٰأَيُّهَا الْكٰفِرُونَ (109:1)۔ یعنی، کہہ دو کہ اے انکار کرنے والو۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر (منکر) کا لفظ ایک صفت کو بتاتا ہے، نہ کہ کسی قوم کو۔ اگر کافر سے مراد کوئی قوم ہوتی تو قرآن میں آیت کے الفاظ لِإِيْلَافِ قُرَيْشٍ (106:1)— یعنی، قریش کو مانوس کرنے کے لیے— کے بجائے لِإِيْلَافِ الْكُفَّارِ (کفار کو مانوس کرنے کے لیے) ہونا چاہیے تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ کافر کا لفظ صفت انکار کو بتانے کے لیے ہے نہ کہ قومی تعلق کو بتانے کے لیے۔ مزید یہ کہ اس بات کا تحقق کہ کسی کے اندر صفت انکار ہے یا نہیں، قیاس کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ حقیقی تجربہ کی بنیاد پر ہوگا۔ اور وہ تجربہ یہ ہے کہ پیغمبر کی سطح پر کم از کم تیرہ سال تک اعلیٰ ترین معیار کی دعوتی جدوجہد چلائی جائے۔ اس کے بغیر خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی کسی کو کافر کہنا درست نہیں۔ مناظرہ برصغیر ہند میں برٹش حکومت کے زمانہ میں اہل اسلام کے درمیان ایک مبتدعانہ رواج ظہور میں آیا جس کو مناظرہ کہا جاتا ہے۔ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان دعوت کے بجائے مناظرہ بازی شروع ہوئی جس نے دونوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader