Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

فرقوں کے درمیان غیر معتدل فضا پیدا کرنے کا کام کیا۔ مسلمان مناظر نے ہندو کے خلاف کتاب لکھی اور اُس کو کفر توڑ کے نام سے شائع کیا۔ اس کے بعد ہندو مناظر نے مسلمانوں کے خلاف کتاب لکھی جو کفر توڑ کا بھانڈہ پھوڑ کے نام سے شائع کی گئی۔ اسلام کا طریقہ دعوت ہے، جو نصح (خیر خواہی) اور شفقت اور یک طرفہ صبر کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ جب کہ مناظرہ (debate) کا مقصد فریق ثانی کو شکست دینا ہوتا ہے۔ مناظر کا نشانہ فریق ثانی کو ہرانا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس قسم کی زبان بولتا ہے کہ ان کے اوپر بلڈوزر چلا دو: Bulldoze them all. اس سے دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو طرح طرح کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ دار الدعوه دار الکفر یا بلاد الکفار کے الفاظ عباسی دور میں استعمال کیے گئے۔ اس سے پہلے یہ اصطلاحیں اہل اسلام کے درمیان رائج نہ تھیں۔ میرے نزدیک یہ اضافہ درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جو ملک اسلامی ملک ہو اس کو دار السلام کہا جائے اور بقیہ تمام ملکوں کو دار الدعوہ کہا جائے۔ دار السلام کے سوا ہر ملک دار الدعوہ ہے خواہ وہ مسلمانوں کے حق میں بظاہر دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن میں پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ارشاد ہوا ہے: وَهَذَا كِتَابٌ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page