دارالدعوہ
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا (6:93)۔ یعنی، یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے برکت والی ہے، تصدیق کرنے والی اُن کی جو اس سے پہلے ہیں۔ اور تا کہ تو ڈرائے ام القری کو اور اس کے آس پاس والوں کو۔ قرآن کی اس آیت میں ام القری سے مراد مکہ ہے۔ جب یہ آیت اتری، اُس وقت مکہ غیر مسلموں کے قبضہ میں تھا۔ حتی کہ کعبہ کو بتوں کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ مگر اس آیت میں قدیم مکہ کو دار الكفر يا مدينة الكفر نہیں کہا گیا بلکہ ام القری کہا گیا اور وہاں انذار، بالفاظ دیگر، دعوت کا حکم دیا گیا۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ وہ تمام مقامات جہاں غیر مسلموں کا غلبہ ہو، وہ اسلامی اصطلاح میں دار الدعوه یادار الانذار قرار پائیں گے۔ ایسے کسی بھی مقام کے لیے دار الكفر يا بلاد الكفار جیسے الفاظ کا استعمال درست نہ ہوگا۔ کسی ملک کا حوالہ جب جغرافی اعتبار سے دینا ہو تو اس کا ذکر اس نام سے کیا جائے گا جس نام سے وہ عمومی طور پر معروف ہے۔ مثلاًسری لنکا کوسری لنکا اور جنوبی کوریا کو جنوبی کوریا۔ اور جب اہل اسلام کی ذمہ داری کے اعتبار سے کسی ملک کا حوالہ دینا ہو تو اس کو دارالدعوۃ کہا جائے گا۔ دارالدعوۃ کا لفظ جغرافی تقسیم کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ اہل اسلام کی دعوتی ذمہ داری کو بتاتا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader