ٹیلی ویژن کا استعمال
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹیلی ویژن کا استعمال نئی دہلی کے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے شمارہ اگست 2004ء میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ میں ٹی وی کے بارے میں دو مختلف فتووں کا ذکر ہے۔ ایک فتوے میں کہا گیا ہے کہ تبلیغ و دعوت کے لیے ٹی وی کا استعمال جائز ہے۔ دوسرے فتوے میں اس کے برعکس یہ کہا گیا ہے کہ ٹی وی تفریح کا ذریعہ ہے جس پر فحش پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ دینی پروگرام کے لیے اس کا استعمال ناجائز ہے (صفحہ 1)۔ اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچانا اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنا ایک ایسا کام ہے جو اہل اسلام پر فرض ہے۔ اس کو ہر دور اور ہر حال میں انجام دینا ہے۔ یہ واضح بات ہے کہ یہ کام اسی جگہ کیا جائے گا جہاں لوگ موجود ہوں یا اسی ذریعہ سے کیا جائے گا جو لوگوں تک پہنچنے والا ہو۔ کسی الگ تھلک جزیرہ میں انفرادی طور پر یہ کام نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں یہ شرط لگانا کہ صرف اسی مقام پر یا اسی ذریعہ سے یہ کام کیا جائے گا جہاں کوئی بُرائی نہ ہو تو اس طرح سرے سے یہ کام ہی انجام نہ پائے گا کیوں کہ دوسرے لوگ کبھی ہماری شرطوں پر ہم کو نہیں مل سکتے۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کو مکہ میں 610 ء میں پیغمبری ملی۔ اس وقت وہاں یہ حال تھا کہ کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ گویا کہ کعبہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader