Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

ٹیلی ویژن کا استعمال

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا۔ دوسری طرف یہ صورتِ حال تھی کہ اس وقت کے مکہ میں کعبہ ہی لوگوں کے لیے مقام اجتماع بنا ہوا تھا۔ مکہ کے لوگ روزانہ کعبہ کے صحن میں جمع ہوتے تھے۔ چنانچہ مکہ والوں تک دینِ توحید کا پیغام پہنچانے کے لیے جو قابلِ حصول مقام تھا وہ یہی کعبہ تھا۔ جہاں لوگ اپنے بتوں کی نسبت سے اکٹھا ہوتے تھے۔ کسی اور جگہ ان لوگوں کو پانا ممکن ہی نہ تھا۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اس معاملہ میں ایک حکمت اختیار کی۔ آپ نے بت کے معاملہ کو اور دعوت کے معاملہ کو ایک دوسرے سے الگ کر کے لیا۔ آپ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ جو لوگ وہاں اکٹھا ہوتے ہیں وہ بتوں کی نسبت سے اکٹھا ہوتے ہیں۔ آپ نے اس پہلو کو نظر انداز کر کے اس وقت کعبہ کو صرف مقامِ اجتماع کے طور پر لیا اور وہاں جا کر وہاں کے موجود لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنانے لگے اور توحید کا پیغام دینے لگے۔ اس حکمتِ نبوی کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ۔ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ یہی حکمت ہمیں ٹی وی کے معاملہ میں اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی دوسرے غیر مطلوب پروگرام جو ٹی وی میں آتے رہتے ہیں، ان کو نظر انداز کر کے اس کے ذریعہ اپنا دینی پروگرام پیش کرنا۔ کیوں کہ ٹی وی کے عمومی رواج کی بنا پر یہ صورتِ حال ہے کہ ہم کو زیادہ سامعین ٹی وی ہی کے ذریعہ مل سکتے ہیں۔ کسی اور ذریعہ سے ہمیں زیادہ سامعین نہیں ملیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page