ٹیلی ویژن کا استعمال
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
تاہم اس کا ایک اور پہلو ہے۔ اس کا تعلق ان پروگراموں سے ہے جو آج کل اسلامی پروگرام کے نام پر ٹی وی میں دکھائے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام عملاً زیادہ مفید نہیں۔ ٹی وی کے دوسرے پروگراموں کی طرح ان اسلامی پروگراموں کو بھی تفریح کے روپ میں ڈھال دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام بھی اسلام کے نام پر تفریحی پروگرام ہوتے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ زیادہ تر اسلامی تفریح ہوتے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی پروگرام۔ جو لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ دوسرے مذہب کے لوگ بھی اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے ٹی وی کو استعمال کرتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق اس اعتبار سے سب سے اچھی مثال مسیحی پروگرام کی ہے ۔ اردو اور دوسری زبانوں میں روزانہ مسیحی پروگرام آتے رہتے ہیں۔ یہ پروگرام فنی اعتبار سے ممتاز طور پر بہتر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے ہر مسلم ملک میں اسلامی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ مگر میری معلومات کے مطابق لوگ اس کو بہت کم دیکھتے ہیں۔ غالباً اس کا سبب ان پروگراموں کا غیر معیاری ہونا ہے۔ مجھے ایک سے زیادہ بار اس کا تجربہ ہوا ہے کہ کسی مسلم ملک میں میرا جانا ہوا۔ وہاں میں نے تحقیق کی کہ وہاں کے ٹی وی پر جو اسلامی پروگرام آتے ہیں، اس کو لوگ کتنا زیادہ دیکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ بہت کم لوگ ٹی وی کے اس اسلامی پروگرام کو دیکھتے ہیں۔ اکثر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader