ٹیلی ویژن کا استعمال
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
مقام پر یہ حال ہے کہ جب ٹی وی پر اسلامی پروگرام آتا ہے تو گھر والے یہ کہہ کر اس کو بند کر دیتے ہیں کہ ـــــ اس کو بند کرو یہ تو سرکاری پروگرام ہے۔ برصغیر ہند کے تقریباً تمام مسلمان اقبال کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اقبال کا کلام ان لوگوں کے لیے صرف گنگنانے کا نغمہ ثابت ہوا ہے، نہ کہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی لینے کا ذریعہ۔ مثلاً اقبال نے کہا تھا: آئینِ نو سے ڈرنا طر زِ کہن پر اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں مگر مسلمانوں، خاص طور پر مذہبی طبقہ کا یہ حال ہے کہ وہ ہر نئی چیز پر بھڑکتے ہیں۔ وہ ہر نئی چیز پر منفی ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ٹی وی ہے۔ مذہبی طبقہ کے درمیان ٹی وی کو اتنا ہی بُرا سمجھا جاتا ہے جتنا کہ شیطان کو۔ اس معاملہ میں صحیح مسلک یہ ہے کہ ٹی وی اور ٹی وی کے غلط استعمال کے درمیان فرق کیا جائے۔ ٹی وی تو ایک خدائی قدرت کا ظہور ہے۔ وہ خدا کے بنائے ہوئے فطری قانون کا استعمال ہے۔ ٹی وی کا طریقہ امکانی طور پر خود خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں چھپا ہوا تھا۔ انسان کا حصہ اس میں صرف اتنا ہے کہ اس نے اس کو دریافت کر کے اسے استعمال کیا۔ ٹی وی کی ٹیکنالوجی اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کا عطیہ ہے، نہ کہ کسی دشمنِ اسلام کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader