دین میں غلو
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہے، اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے۔ بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے۔ اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دیدے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام دیے جائیں تو اس میں مبالغہ کر کے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی تعلیم کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے تو وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا (الرساله، جنوری 1999)۔ دین میں غلو اسلام میں جو چیزیں منع ہیں، ان میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو غلو کہا گیا ہے۔ یعنی حد سے تجاوز کرنا۔ غلو کا یہ فعل ہمیشہ دینی معاملات میں کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں نصاریٰ کو غلو سے منع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ (5:77)۔ یعنی اپنے دین میں غلو نہ کرو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader