Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

دین میں غلو

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نہیں فرمایا کہ: لا تُغْلُوا فِی کُفْرِکُم (اپنے کفر میں غلو نہ کرو)۔ میرے ہم وطنوں میں ایک صاحب تھے۔ ان کا نام قمر الدین تھا۔ بہت مخلص آدمی تھے۔ نماز روزہ کے حد درجہ پابند تھے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا کہ جمعہ کی نماز کے لیے وقت پر مسجد پہو نچنا ان کے لیے دشوار ہو جاتا۔ اس کی وجہ ”شرعی غسل“ کے بارے میں ان کا انتہا پسندانہ تصور تھا۔ جمعہ کے دن وہ نہانا شروع کرتے تو بار بار انہیں شبہ ہو جاتا کہ ان کا غسل مکمل نہیں ہوا۔ فلاں جگہ کے بال تک پانی نہیں پہو نچا۔ جسم کا فلاں حصہ دھونے سے رہ گیا۔ چنانچہ وہ گھنٹوں غسل خانہ میں نہاتے رہتے۔ بعض اوقات یہ مدت اتنی لمبی اور اتنی تکلیف دہ ہو جاتی کہ غسل کے عمل میں حوض کے پانی کے ساتھ ان کی آنکھوں کے آنسو بھی شریک ہو جاتے۔ یہ ایک غیر ضروری قسم کا شک تھا۔ شریعت کی نظر میں یہ غلو ہے، نہ کہ اسلامی احتیاط۔ غلو کی یہ برائی ہمیشہ دینی جذبہ کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ مگر اپنے انجام کے اعتبار سے وہ دین کی ضد بن جاتی ہے۔ ابتدائی نیت کے اعتبار سے وہ بظاہر معصوم ہوتی ہے مگر عملی صورت اختیار کرنے کے بعد غیر معصوم۔ اللہ کی عبادت کرنا اسلام کے فرائض میں سے ہے۔ لیکن اگر کوئی عبادت گزار مغرب کے وضو سے فجر کی نماز پڑھے یا ہر رات کو سارا قرآن ختم کرنے لگے تو اس طرح کا فعل عبادت میں غلو بن جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page