Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

سوال وجواب

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

وَالْغُلُوَّ فِي الدِّيْنِ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّيْنِ (مسند احمد ، حدیث نمبر 1851 ، سنن ابن ماجه ، حدیث نمبر 3029 ) ۔ یعنی تم غلو سے بچو کیوں کہ پچھلی امتیں غلو ہی کی سبب سے ہلاک ہوئیں۔ غلو یا انتہا پسندی کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو اس کی آخری منطقی حد (logical extreme) تک لے جایا جائے ۔ اور پھر اس کی بنیاد پر انتہائی احکام صادر کیے جائیں ۔ اس کی ایک مثال خود آپ کی زیر نظر تحریر میں موجود ہے ۔ توحید پر زور دینا بہت اچھا ہے ۔ مگر یہ کہنا اتنا ہی غلط ہے کہ یہ کلمہ پڑھنے والے مسلمان چونکہ شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے ۔ لہٰذا ہم موحد لوگ ان قبر پرستوں (بریلویوں اور شیعوں وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔ اسی آخری بات کو حدیث میں غلو کہا گیا ہے اور غلو خود ایک ہلاکت خیز عمل ہے ۔ ایک شخص کو علم دین حاصل ہو اور علم دین کی روشنی میں اس نے یہ جانا ہو کہ توحید اسلام میں بنیادی عقیدہ کی حیثیت رکھتی ہے تو ایسے شخص کو حق ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت لوگوں کو توحید کی طرف بلائے ۔ لیکن اس اصلاحی دعوت کے ساتھ اگر وہ یہ حکم لگانے لگے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page