Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

سوال وجواب

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

فلاں لوگ چونکہ اس کے نزدیک مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہیں اس لیے ان کا بائیکاٹ کیا جائے حتیٰ کہ ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی تو ایسا شخص خود اسلام کی نظر میں غلط کار قرار پائے گا کیونکہ وہ غلو کر رہا ہے اور غلو کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلاح کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کی ناگزیر شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مصلح ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ اس کو یہ جاننا چاہیے کہ اس کی ذمہ داری صرف پر امن دعوت ہے یہ اس کی سرے سے ذمہ داری ہی نہیں کہ وہ متعین طور پر لوگوں کے بارے میں یہ حکم لگائے کہ فلاں شخص مشرک ہے۔ مصلح کو چاہیے کہ وہ مشرک ہونے کے معاملہ کو خدا کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو صرف خیر خواہانہ نصیحت تک محدود رکھے ۔ جن لوگوں کے اندر فرق کرنے کی یہ صلاحیت نہ ہو ان کا اصلاح کے میدان میں آنا بذات خود ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے سوالات کا نمبر وار جواب حسب ذیل ہے۔ (1 کسی مصلح کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ شرک کے مسئلے کو بتائے۔ کسی مصلح کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی متعین شخص کو مشرک قرار دے اور اس کے اوپر شرک کے احکام نافذ کرنے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page