سوال وجواب
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
کوشش کرے۔ پہلا کام یقینی طور پر جائز ہے مگر دوسرا کام یقینی طور پر جائز نہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔ (2 مشرک کسی قوم یا نسل کا نام نہیں۔ کسی بھی شخص سے مشرک کا فعل سرزد ہو سکتا ہے۔ مگر تعیں کے ساتھ کسی کو مشرک قرار دینے کا حق صرف خدا کو ہے انسان کو نہیں۔ (3 کوئی مقتدی امام کی نماز نہیں پڑھتا۔ ہر مقتدی خود اپنی نماز پڑھتا ہے۔ امام کے سبب سے کسی مقتدی کی نماز نہ مقبول ہوتی ہے اور نہ غیر مقبول۔ قبولیت کا تعلق تمام تر ہر آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ باجماعت نماز کا مقصد صرف اجتماعیت ہے۔ جس امام کے پیچھے بھی اجتماعیت کا یہ مقصد حاصل ہو جائے وہ درست قرار پائے گا۔ یہ بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: اَلصَّلَاۃُ الْمَکْتُوْبَۃُ وَاجِبَۃٌ خَلْفَ کُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا کَانَ أَوْ فَاجِرًا وَاِنْ عَمِلَ الْکَبَائِرَ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 594)۔ یعنی، فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد اور خواہ اس نے کبیرہ گناہ کیا ہو۔ یہاں اگر کوئی یہ نکتہ نکالے کہ حدیث میں فاجر یا مرتکب کبائر کا لفظ ہے اس میں مشرک کا لفظ نہیں تو یہ بھی اسی غلو کی ایک صورت ہوگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader