Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

سوال وجواب

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس قسم کے غلو کرنے والوں پر فرض ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ اس قسم کے فتنہ انگیز الفاظ بول کر امت میں نزاع پیدا کریں۔ (4 کس مصلی کی نماز ہوئی اور کس مصلی کی نماز نہیں ہوئی ، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار تمام تر اللہ تعالی کو ہے۔ جو لوگ کسی مصلی کی نماز اللہ تعالی کے نزدیک قبول ہونے یا نہ ہونے کا حکم لگائیں وہ اپنی حد سے تجاوز کرتے ہیں اور حد سے تجاوز کرنا بلا شبہ سخت گناہ ہے۔ (5 کلمہ پڑھنا صرف اسلام میں داخلہ کا اعلان ہے۔ کلمہ کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی شرک کے ارتکاب سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ فتنہ کی اس دنیا میں کوئی بھی شخص شرک میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ مصلح کا کام مشرک کی نشاندہی کرنا اور اس پر حکم لگانا نہیں ہے بلکہ عمومی انداز میں شرک کا مسئلہ بتانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ کو جب اصلاحی خطاب کرنا ہوتا تو آپ فرماتے: مَا بَالُ أَقْوَامِ يَفْعَلُونَ كَذَا (رسائل ابن حزم ، جلد 1، صفحہ 383 )۔ یعنی ، لوگوں کو کیا ہو گیا کہ وہ ایسا اور ایسا کرتے ہیں۔ (6 ایک شخص اگر شراب پیتا ہو تو مصلح کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اس کے شرابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page