سوال وجواب
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
ہونے کا اعلان کرے اور اس کو کوڑا مارنے کا فتویٰ دے۔ مصلح کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کامل خیر خواہی کے ساتھ شرابی کو نصیحت کرے اور برابر نصیحت کرتا رہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بظاہر شرک میں مبتلا ہے تو مصلح کو چاہیے کہ وہ خیر خواہانہ انداز میں اس کو سمجھائے۔ مصلح کو اس کا حق نہیں کہ وہ بر سرِ عام تعین کے ساتھ کسی کے مشرک ہونے کا اعلان کرے اور اس کے خلاف فتویٰ جاری کرے۔ یہ سب دینی اصطلاح میں غلو کے کام ہیں اور اسلام میں غلو کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ 7) اس معاملے میں مسلم اور نو مسلم دونوں کا حکم ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ اصلاح کی ہمدردانہ کوشش دونوں کے ساتھ کی جائے گی۔ مگر تعین کے ساتھ شرعی حکم لگانے کا کام کسی کے خلاف بھی نہیں کیا جائے گا۔ 8) پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سارا زور روح دین کو زندہ کرنے پر لگایا جائے۔ خارجی اعمال ہمیشہ داخلی روح کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ خارجی اعمال سے اپنے آپ داخلی روح پیدا ہو جائے۔ تکفیر و تفسیق کا موجودہ طریقہ جو مسلمانوں میں ایک عرصے سے رائج ہے وہ سراسر باطل ہے شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مذموم طریقہ عباسی سلطنت کے زمانے میں رائج ہوا اور ”فرق ضالہ“ کے نام پر وہ کئی سو سال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader