Urdu book · اسلام دینِ فطرت

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

کام ہو رہا ہے۔ ہر جز انتہائی صحت اور پابندی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لگا ہوا ہے۔ مگر کسی کو یہاں کوئی ظاہری بدلہ نہیں ملتا۔ یہی چیز انسان سے بھی مطلوب ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر کے میں لگا رہے، بغیر اس کے کہ اس دنیا میں اس کو اس کے عمل کا کوئی معاوضہ ملنے والا ہو۔ اونچا پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تو اضحت اختیار کرے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے __ نماز اسی قسم کی زندگی کی ایک علامتی تصویر ہے جو روزانہ پانچ وقت خدا کے وفادار بندوں پر فرض کی گئی ہے۔ کائنات میں ہر آن جو سرگرمیاں جاری ہیں وہ خاموش زبان میں پکار رہی ہیں کہ خدا کی دنیا میں کون قیمت والا ہے اور کون بے قیمت ہے۔ وہ لوگ جن کو صرف ظاہری مفاد متحرک کر سکتا ہو ( خواہ وہ روپیہ پیسہ کا مفاد ہو یا عزت و شہرت کا مفاد) وہ اس غیر معاوضہ طلب دنیا میں بالکل بے قیمت ہیں۔ کائنات میں ظاہر کی ہوئی خدائی اخلاقیات کے معیار پر وہ پورے نہیں اترتے۔ خدا کی دنیا میں وہی لوگ قیمت رکھتے ہیں جو خالص صداقت کی خاطر متحرک ہوئے ہوں۔ جو تسکین ذات سے اوپر اٹھ کر عمل کا ثبوت دینے والے ہوں۔ جو ہر قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر کام کریں۔ آئندہ آنے والے جنتی دور میں وہ تمام لوگ خدا کی دنیا سے باہر دھکیل دیئے جائیں گے جنھوں نے قریبی مفاد (عاجلہ) کے لئے سرگرمیاں دکھائی تھیں ۔ اور خدا کی حسین اور خوشیوں سے بھری ہوئی دنیا ہمیشہ کے لئے صرف ان لوگوں کی ورات میں دے دی جائے گی جو دیر میں آنے والے فائدہ (آخرت) کے لئے سرگرم عمل رہے تھے۔ جو سامنے کی چیزوں سے اوپر اٹھ کر ”غیب“ کی طرف اپنی توجہ لگائے ہوئے تھے : ”اور انھوں نے قدر نہ پہچانی اللہ کی جیسی کہ قدر ہے اس کی۔ حالاں کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے ۔ وہ پاک ہے اور بہت اوپر ہے ان کے شرک سے ۔ اور اس روز نہ پھونک ماری جائے گی صور میں ۔ پھر تمام آسمان اور زمین والے بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے۔ صرف وہی بچے گا جس کو خدا چاہے۔ پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور سب کے اعمال نامے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ٹھیک ٹھیک سب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ کسی کے اوپر کوئی ظلم نہ ہو گا ۔ ہر شخص کو پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کیا تھا۔ اور اللہ کو خوب خبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اور انکار کرنے والے گر وہ در گردہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے ۔ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے چوکیدار ان سے کہیں گے : کیا تمھارے پاس تم ہی لوگوں میں سے پیغام پہنچانے والے نہ آئے تھے جو تم کو خدا کی باتیں سناتے تھے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ وہ جواب دیں گے ہاں ۔ مگر عذاب کا وعدہ منکروں کے اوپر پورا ہو کر رہا۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ اس میں پڑے رہو۔ کیسا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا۔ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ گروہ در گر وہ جنت کی طرف روانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page