Urdu book · اسلام دینِ فطرت

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کئے جائیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور جنت کے دروازے کھولے جائیں گے تو جنت کے فرشتے کہیں گے، سلامتی ہو تم پر۔ خوش رہو۔ جنت میں ہمیشہ رہنے کے لئے داخل ہو جاؤ۔ اہلِ جنت کہیں گے۔ شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔ کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تو دیکھے گا فرشتوں کو کہ گھیرے ہوئے ہوں گے عرش کے گرد پاکی بولتے ہوئے اپنے رب کی خوبیوں کی۔ اور تمام بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور یہی بات ہوئی کہ سب خوبی اللہ کے لئے ہے جو مالک ہے سارے جہان کا‘‘ (زمر۔ آخر) کائنات میں انتہائی وسیع پیمانہ پر ہر آن یہ دکھایا جا رہا ہے کہ آئندہ بننے والی معیاری دنیا (جنت) میں بسانے کے لئے خدا کو کس قسم کے شہری درکار ہیں۔ اس کو وہ انسان درکار ہیں جو کائناتئ اخلاقیات کے معیار پر پورے اتریں۔ وہ اس دین کو اختیار کریں جو اس نے لفظی طور پر اپنی کتاب میں اور عملی طور پر اپنی کائنات میں ظاہر کیا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس سے سبق نہ لیں اور خود اپنے گھڑے ہوئے راستوں پر چلتے رہیں، وہ خدا کی نظر میں بدترین مجرم ہیں۔ خدا کے بتائے ہوئے ’’دین‘‘ کے سوا جو دین بھی وہ اختیار کریں گے وہ آخرت میں بالکل بے قیمت ہوگا۔ کیوں کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کا انکار کیا (کہف ۱۰۵) جو لوگ آنکھ رکھتے ہوئے خدا کی نشانیوں کو نہ دیکھیں اور کان رکھتے ہوئے خدا کی آوازوں کو نہ سنیں، وہ خدا کے نزدیک جانور سے بھی زیادہ بد تر ہیں (انفال ۲۲) آئندہ بننے والی دنیا میں ان کا جو انجام ہو گا اس کا اعلان خدا کی کتاب میں ان لفظوں میں کر دیا گیا ہے: و من اعرض عن ذكرى فان له معيشة اور جس نے منہ پھیر میری نصیحت سے تو اس کے لئے ضنكاً ونحشره يوم القيامة أعمى۔ قال (آخرت میں) تنگی کا جینا ہوگا۔ اور قیامت کے روز ہم رب لم حشرتنى أعمى وقد كنت بصيرا ۔ اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا میرے رب! قال كذ لك اتتك آيتنا فنسيتها وكذ لك تو نے مجھ کو اندھا کیوں اٹھایا۔ میں تو دنیا میں آنکھوں اليوم تنسلى ۔ وكن لك نجزى من اسرف والا تھا۔ ارشاد ہو گا کہ اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس ولم يومن بآيات ربه ولعذاب الآخرة ہماری نشانیاں۔ پس تونے ان کو بھلا دیا تو اسی طرح اشد وابقى (طه ۱۲۷ - ۱۲۴ ) آج تم کو بھلا دیا جائے گا۔ اس طرح ہم بدلہ دیں گے ہر اس شخص کو جو حد سے نکل گیا اور یقین نہ لایا اپنے رب کی نشانیوں پر۔ اور یقیناً آخرت کا عذاب بڑا سخت ہے۔ نوٹ: یہ مقالہ سیمینار منعقدہ تعلق آباد نئی دہلی (۸ جنوری ۱۹۷۹) میں پڑھایا گیا۔ سیمینار کا عنوان تھا: خدا کی وحدانیت کے تصورات (Concepts of the Unity of God)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page