Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

ایمان

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

یقین: جو ایمان کا پہلا جزء ہے، یہ خارج سے درآمد کی ہوئی کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا زندہ شعور ہے جو خود انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہے۔ انسان کائنات پر غور کرتا ہے، رسول کی تعلیمات کو دیکھتا ہے اور اپنے اندر سے اٹھنے والی آواز پر کان لگاتا ہے تو یہ تینوں چیزیں بالکل ایک معلوم ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا کوئی ایک ہی پیغام ہے جو ایک وقت میں تین مختلف مقامات سے نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا رسول جس حقیقت کی خبر دیتا ہے کائنات پوری کی پوری بالکل اس کی ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے اور انسان کی اندرونی آواز ہمہ تن اس کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ کتاب الہی میں جو کچھ پڑھتا ہے، زمین و آسمان کے اندر اسی کو دیکھتا ہے اور جو کچھ پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے اس کی فطرت اس کو اس طرح قبول کر لیتی ہے جیسے کسی خانے میں بالکل اسی سائز کی چیز رکھ دی گئی۔ مگر یقین کی یہ کیفیت اس کو خود بخود حاصل نہیں ہوتی، جس طرح فطرت کی ہر صلاحیت اسی وقت رو بہ کار ہوتی ہے جب اس کو نشو و نمادے کر ابھارا جائے۔ کائنات کا ہر راز اسی وقت ایمان والے کے اوپر بے نقاب ہوتا ہے جب اس کی تلاش میں وہ اپنے آپ کو گم کر چکا ہو اور کسی کتاب کے مضامین اسی وقت آدمی پر کھلتے ہیں اور اسے فائدہ پہنچاتے ہیں جب اس کا گہرا مطالعہ کر کے اس کے مطالب کو اخذ کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح یہ یقین بھی آدمی کو اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنی قوت ارادی کو اس کے لیے کام میں لائے۔ یہ اگرچہ کائنات کی واضح ترین حقیقت ہے مگر اس دنیا کے لیے اللہ تعالی کا قانون یہی ہے کہ آدمی کو وہی کچھ ملے جس کے لیے اس نے جد و جہد کی ہو۔ ایمان کا دوسرا جزء ”اعتماد“ ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کا مطالعہ جہاں آدمی کو ایک طرف یہ بتاتا ہے کہ ایک عظیم خالق اور کارساز ہے جو اس کارخانہ کے تمام واقعات کا حقیقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page