Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

ایمان

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان سب سے پہلے ایمان کو لیجئے ۔ یہ اس عظیم امتحانی مہم میں شریک ہونے کا فیصلہ کرنا ہے جس کی ابتدا زبان کے اقرار سے ہوتی ہے اور جس کی انتہا یہ ہے کہ اسی پر قائم رہ کر آدمی اپنی جان دے دے ۔ یہ وہ عہد ہے جو بندہ اپنے خدا سے اس بات کے لئے کرتا ہے کہ وہ ساری عمر اس کا وفادار رہے گا ۔ ایمان اس کیفیت کا نام ہے جو حقیقت کے صحیح اور مخلصانہ شعور سے پیدا ہوتی ہے ۔ جب آدمی اس حیرت انگیز کائنات کے پیچھے ایک لامحدود قوت کا مشاہدہ کر لیتا ہے ، جب وہ خدا کے رسول کو تسلیم کر کے اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہو جاتا ہے ، جب اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ تخلیق کا یہ عظیم منصوبہ بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب ماضی اور مستقبل کے تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کا حساب لیا جائے گا ، تو اسی کیفیت کے مجموعہ کو ہم ایمان سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ایمان کی اصل روح اعتماد کرنا ہے ۔ یہ اعتماد ایک ایسی ہستی کے بارے میں ہوتا ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے ۔ اس لئے اس میں یقین کا مفہوم پیدا ہوا۔ اسی طرح خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ماننے کے لازم معنی یہ ہیں کہ اس کے غضب سے ڈرا جائے اور اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کی جائے ، اسی لئے اس کے ساتھ تقویٰ اور خوف کا ہونا ضروری ہے ۔ اس طرح اگر قرآن کے تصور ایمان کی تشریح کے لئے تین الفاظ یقین ، اعتماد اور خوف — کو اکٹھا کر دیں تو ہم اس کی روح کے بالکل قریب تک پہنچ جاتے ہیں ۔ ایمان اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے — خدا اور رسول پر اس کلی اعتماد کا نام ہے جو یقینِ کامل سے پیدا ہوتا ہے اور خدا اس خوف کا نام ہے جو آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ کسی پولیس اور فوج کے تسلط کے بغیر خود سے اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page