Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

ایمان

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

سبب ہے۔ اسی کے ساتھ اور عین اس وقت اس کو دوا اور باتوں کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ایک اپنی انتہائی بے چاری کا اور دوسرے خدا کے بے پایاں احسانات کا۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے وجود کے لیے بے شمار چیزوں کا ضرورت مند ہے۔ مگر وہ کسی ایک چیز کو بھی خود سے نہیں بنا سکتا۔ وہ ایک کمزور بچہ کی شکل میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی زمین کے اوپر کھڑا ہے جو فضا کے اندر معلق ہے جس کے توازن میں معمولی بگڑ بھی آجائے تو اس کو تباہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ اپنے کو ایک ایسی عظیم کائنات کے اندر گھرا ہوا پاتا ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں۔ ان حالات میں اس کو اپنا وجود بالکل بے بس اور حقیر معلوم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ وہ سب کچھ جس کی اسے ضرورت تھی اس کے لئے مہیا کر دیا گیا ہے۔ اس کو ایسا جسم دیا گیا ہے جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو بولتا ہے، جو سوچتا ہے اور اس کی قوتوں کو برقرار رکھنے کے لئے ایک خود بخود چلنے والی مشین کی طرح مسلسل کام کر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں پوری ہم آہنگی کے ساتھ اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ اس کو اپنا وجود مجسم احسان نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ جذبہ شکر اُمنڈتا ہے اور وہ احسان مندی کے جذبہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ اس ہستی کو اپنا سب کچھ قرار دے جس نے یہ سارا انتظام اس کے لئے کیا ہے۔ پہلی چیز اس کو اپنی مکمل بے بسی کا یقین دلاتی ہے۔ اس کو شدید احساس ہوتا ہے کہ کوئی بلند تر قوت ہوتی ہے جو اس کی دستگیری کرے اور دوسرا احساس اس کی طلب کا جواب بن کر سامنے آتا ہے، جو مطالعہ اس کو اپنے اندر خلاء کا احساس دلاتا ہے یہی مطالعہ ایک قوت بن کر اس خلاء کو پُر بھی کر دیتا ہے۔ ایمان کا تیسرا جزء ”خوف“ ہے۔ یہ خوف ایمان کے ابتدائی دواجزاء یقین اور اعتماد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page