ایمان
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا لازمی نتیجہ اور اس کی تکمیل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کو دیکھتا ہے جو عدل و حکمت کا خزانہ ہے ، دوسری طرف کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ اتنا بڑا تخلیقی منصوبہ کبھی بے مقصد نہیں ہوسکتا۔ پھر جب وہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو دیکھتا ہے جن میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی ، اچھے بھی ہیں اور برے بھی تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ محاسبہ کا ایک دن آنا ضروری ہے ، جہاں سچوں کو ان کی سچائی کا اور بُروں کو اُن کی بُرائی کا بدلہ دیا جائے۔ رب العالمین پر اعتماد ہی اس کے لئے رب العالمین سے خوف کی بنیاد بن جاتا ہے۔ یہ خدا کا خوف اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو کسی ڈراؤنی چیز کو دیکھ کر آدمی کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو کسی بھی ایک لفظ سے صحیح طور پر تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انتہائی اُمید اور انتہائی اندیشہ کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کر پاتا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے کو کچھ نہ سمجھنے کا وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس میں آدمی کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہتی ہیں اور اپنے حقوق کو وہ بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ محبّت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے اسی کی طرف بھاگتا ہے ، جس سے چھینے کا خطرہ محسوس کرتا ہے اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے ، یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سراپا اضطراب ہے۔ یہ ایمان کے تین نمایاں پہلو ہیں۔ ایمان دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو خدا کے خوف، اس پر مکمل اعتماد اور اس کے بارے میں کامل یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالی پر اس کے اصولوں پر اور اس کے احکام پر ایمان لائے ، اپنا سب کچھ اس کو سونپ دے، اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہو جائے، وہ مومن ہے۔ ایمان عقل کے لیے ہدایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader