Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

ہجرت

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت اب ہجرت 1 کو لیجیے۔ ہجرت کے معنی ہیں چھوڑنا، ترک تعلق کرنا، عام طور پر ہجرت کو ترک وطن کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ یقیناً ہجرت کا لفظ مخصوص طور پر جس واقعہ کے لئے بولا جاتا ہے وہ یہی ہے۔ مگر کسی واقعہ کو اس کے پس منظر سے الگ کر کے سمجھا نہیں جاسکتا۔ امام راغب اصفہانی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ”المفردات فی غریب القرآن“ میں اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ہجر اور ہجران کا مطلب انسان کی دوسروں سے جدائی ہے خواہ وہ جسم سے ہو یا زبان سے ہو یا دل سے ہو۔ اللہ کا ارشاد ہے: وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ (4:34)۔ یعنی، اپنی عورتوں کو خوابگاہوں میں جدا چھوڑ دو۔ یہاں جسمانی علیحدگی کی طرف اشارہ ہے۔ اور إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً (25:30)۔ یعنی، میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا۔ یہاں قلب کی علیحدگی یا قلب اور زبان دونوں کی علیحدگی مراد ہے۔ اور وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلاً (73:10)۔ یعنی، اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جا۔ اس میں تینوں قسم کی علیحدگی مُراد ہو سکتی ہے۔ مہاجرت در اصل دوسروں کو چھوڑنا اور ان سے ترک تعلق کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا (2:218)۔ یعنی، اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ (59:8)۔ یعنی، ان مفلس مہاجروں کے لیے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے ہیں۔ يَأْمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِراً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ (4:100)۔ یعنی، اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے۔ يَا فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّى يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ (4:89)۔ یعنی، پس تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ ان آیات میں ظاہر ہے کہ دار الكفر سے نکل کر دار الاسلام میں جانا مراد ہے جیسا کہ لوگوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ اور علماء نے بھی کہا ہے کہ ہجرت کا مطلب شہواتِ نفس کو چھوڑنا اور برے اخلاق اور غلط کاریوں سے بچنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page