ہجرت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ یہ ترکِ وطن جو مومن کی زندگی میں پیش آتا ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوتا بلکہ ایک لمبی تاریخ کا اختتام ہوتا ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو مومن کی زندگی میں پہلے دن سے شروع ہوتا ہے اور بالاآخر ترکِ علائق تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک شخص پر حق کا انکشاف ہوتا ہے اور وہ اٹھ کر لوگوں کو اس کی طرف بلانا شروع کر دیتا ہے۔ وہ وقت کے خلاف ایک نئی آواز کا علمبردار بن کر گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ اس نے ماحول کی بندگی چھوڑ دی اور زمانہ کے خلاف اپنے لئے ایک راہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ہجرت کا آغاز ہے جب آدمی ناجائز زندگی کو چھوڑ کر جائز زندگی کو اپنانے کا عزم کرتا ہے تو اس کے بعد ایک مسلسل جدوجہد شروع ہو جاتی ہے جس میں اس کو بہت سی پرانی چیزوں کو چھوڑنا اور بہت سی نئی چیزوں کو اختیار کرنا ہوتا ہے، کتنے ہی اپنے لوگوں سے کٹنا اور کتنے غیروں سے جُڑنا ہوتا ہے۔ اندر سے باہر تک بے شمار پسندیدہ چیزوں کو ترک کرنا اور اس کے بجائے دوسری ناخوشگوار چیزوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ایمان لانے کے ساتھ ہی مومن کی زندگی میں ہجرت سے ایک نیا طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے بہت سی پرانی چیزوں کو چھوڑنے کی ابتداء ہو جاتی ہے۔ یہ ہجرت جو اس نے خود کی ہے دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلانا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں کچھ لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں اور کچھ لوگ مخالف بن جاتے ہیں۔ اس طرح ماحول میں بالکل دو مقابل گروہ ابھرنے لگتے ہیں جن میں سے ایک گروہ اس چیز سے چمٹا ہوا رہتا ہے جس کو دوسرا گروہ چھوڑ دینا چاہتا ہے۔ یہ اختلاف صرف اس پہلو سے نہیں ہوتا کہ ایک گروہ دوسرے گروہ پر تنقید کرتا ہے اور اس کے رویہ کو غلط قرار دیتا ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دونوں کے درمیان ایک عملی کش مکش شروع ہو جاتی ہے۔ انسانی معاشرہ ایک وحدت ہے جس میں کوئی شخص دوسرے تمام لوگوں سے الگ اپنے لیے کوئی راہ نہیں بنا سکتا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے سماجی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader