ہجرت
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
واقع ہوا ہے۔ اس کی تمام ضرورتیں دوسروں سے مل جل کر انجام پاتی ہیں اور اس دوسروں کے پھیلائے ہوئے نظریات کے مطابق، زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔ کوئی شخص اپنے پسند کئے ہوئے نظریہ کے مطابق زندگی بسر نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ سماج کے تمام اداروں میں اسی نظریہ کو حاکم نہ بنادے۔ اس کے بغیر نہ تو وہ مدرسہ میں اپنی مرضی کے مطابق تعلیم حاصل کرسکتا ہے، نہ بازار میں اپنی مرضی کے مطابق خرید و فروخت کرسکتا ہے، نہ عدالتوں سے اپنے اصول کے مطابق فیصلے لے سکتا ہے، حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہیں کرسکتا کہ جس چیز کو وہ حلال سمجھتا ہے اسے کھالے اور جو چیزیں اس کے نزدیک حرام ہیں ان کو اپنے حلق کے نیچے اتر نے نہ دے۔ اس لیے جب کوئی شخص وقت کے خلاف کسی مسلک کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ لازمی طور پر ان لوگوں سے ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے جن کے بنائے ہوئے نظام کے اندر وہ زندگی گزار رہا ہے۔ انسانی معاشرہ کی مثال ایک جال کی سی ہے جس کے تمام افراد حلقوں کی مانند ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں سے کسی ایک حلقہ کو الگ کرنے کی کوشش پورے جال کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اس طرح ایک مستقل اختلاف شروع ہوجاتا ہے جو دن بہ دن نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے، قدم قدم پر ایک دوسرے سے مزاحمت پیش آتی ہے۔ جس میں برسرِ اقتدار طبقہ اہل حق کو ستانے اور ان کو ذرائع حیات سے محروم کرنے کی ساری تدبیریں کرتا ہے۔ دونوں طرف سے شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ایک طرف مظالم کی شدت دوسری طرف یہ شدت کہ سب کچھ سہیں گے مگر اپنے عزم کو ترک نہیں کریں گے۔ جس چیز کو غلط سمجھ کر ایک بار چھوڑ چکے ہیں اس کی طرف دوبارہ واپس نہیں جائیں گے۔ یہ کش مکش بالآخر ایک ایسے نقطے پر پہنچ جاتی ہے جہاں معاشرہ حق پسندوں کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان کے وجود کو سرے سے ختم کر دیا جائے ۔ اس وقت اہل حق یہ طے کرتے ہیں کہ اس بستی کو چھوڑ کر زمین کے کسی دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader