ہجرت
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹکڑے میں چلے جائیں۔ پہلے انھوں نے غلط خیالات اور حرام معاملات کو ترک کیا تھا۔ اب وہ اپنے مکان، اپنی جائداد، اپنے عزیزوں، غرض ساری متاع حیات کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ہجرت کی آخری اور انتہائی شکل ہے۔ اس ہجرت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک مقام کو چھوڑ کر آدمی دوسرے مقام پر چلا جائے، بلکہ یہ ناحق کو چھوڑ کر حق کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ شیطان و طاغوت کی بندشوں سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا ہے۔ چنانچہ قرآن و حدیث میں مومنین کی ہجرت کو "ہجرت الی اللہ" کہا گیا ہے۔ یعنی خدا کی طرف ہجرت۔ ایسا کیوں ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ لوگ زمین چھوڑ کر آسمان پر نہیں چلے جاتے بلکہ اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ چھوڑنے کا یہ عمل خدا پرستی کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ خدا کی طرف ہجرت کرنے کا مطلب ہے کہ خدا کی راہ میں جو کچھ مانع آئے، جو چیز بھی اس کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنے اس کو چھوڑ دینا۔ یہ خدا پرستانہ زندگی کی بنیاد ہے۔ جب تک آدمی اس ہجرت کے لئے تیار نہ ہو وہ ایمان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ اپنی زندگی کو اسلامی زندگی بنانے میں وہی کامیاب ہو سکتا ہے جو اس قربانی کے لیے تیار ہو۔ جب وہ دیکھے کہ اس کے اندر ایسے افکار اور رجحانات پرورش پا رہے ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف ہیں تو انھیں کھرچ کر نکال دے۔ اگر وہ غلط اعمال میں مبتلا ہو تو انھیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے یا کسی کا تعلق دین کی طرف کھل کر آنے میں روک بن رہا ہو تو ایسے تعلق کو خیر باد کہہ دے۔ کسی معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کا مسئلہ دین کے کام میں اپنا حصہ ادا کرنے کا موقع نہ دیتا ہو تو ایسے معیارِ زندگی کو دفن کر دے۔ دین کے تقاضے پورے کرنے میں معاشی خوشحالی کو خطرہ لاحق ہو تو اس کو گوارا کرلے۔ اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کرنے میں اپنا اور بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہو تو ان کی پروا کیے بغیر آگے بڑھ جائے ۔ غرض ہر بار جب آدمی ایسی حالت میں مبتلا ہو کہ ایک طرف خدا بلا رہا ہو اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader