ہجرت
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری طرف کوئی دوسرا تقاضا آدمی کو کھینچ رہا ہو تو دوسرے تقاضوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھ جانا اسی کا نام ہجرت الی اللہ ہے۔ اس ہجرت کے بہت سے مراحل اور اس کی بے شمار قسمیں ہیں۔ مگر اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہم اس کو دو بڑے عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ ایک ناجائز اور حرام چیزوں کو چھوڑنا اور دوسرے ان چیزوں کو چھوڑنا جو فی نفسہ قابل اجتناب نہیں ہیں۔ مگر دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں ایسے مراحل آتے ہیں کہ مومن کو ان سے بھی دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ ہجرت کی پہلی قسم میں خیالات اور اعمال کی وہ پوری فہرست آتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام اور قابل ترک قرار دیا ہے۔ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ ماحول نام ہے تاریخ ، روایات ، عادات اور چال چلن کے ایک مخصوص ڈھانچے کا۔ یہ افکار و اعمال کا ایک نظام ہے جو زندگی کے تمام گوشوں پر چھایا ہوا رہتا ہے۔ جس طرح زمین کے گولے کے گرد ہوا کا ایک غیر مرئی غلاف ہے جس میں ہم سب لوگ ڈوبے ہوئے ہیں ، ٹھیک اسی طرح ہر پیدا ہونے والا اپنے وقت کے ماحول میں ڈوبا ہوا پیدا ہوتا ہے۔ اسی کے اندر اس کی نشوونما ہوتی ہے ، ماحول کے افکار اور روایات اس کی رگ رگ میں پیوست ہو جاتے ہیں اور اکثر اوقات ان کے خلاف سوچنا اس کے لئے دشوار ہو جاتا ہے۔ جب آدمی پر حق کا انکشاف ہوتا ہے تو سب سے پہلے ”دینِ آباء“ کو چھوڑنے کا مرحلہ اس کے سامنے آتا ہے۔ اس کو ان تمام غلط اثرات کو کھرچ کر اپنے اندر سے نکال دینا ہوتا ہے جو ماحول کے اثر سے اس نے قبول کر رکھے تھے ۔ پھر ہر آدمی کے اندر ایک نفس ہوتا ہے ، یہ نفس صرف لذتوں کو ڈھونڈتا ہے ، اس کے نزدیک کسی چیز کو پسند یا نا پسند کرنے کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ صحیح ہے یا غلط ، اچھی ہے یا بُری بلکہ اس کے نزدیک پسندیدگی کا معیار صرف یہ ہے کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے اور اس کے ذریعہ سے اس کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آدمی اپنی جاہلی زندگی میں بہت سی ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader