Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

ہجرت

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

دلچسپیوں اورمشغولیبتوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے جو اگرچہ غلط ہیں مگر اس کے نفس کو پسند آتے ہیں۔ اسی طرح وہ بہت سی ایسی ذمہ داریوں کو بھلا دیتا ہے اور انہیں ترک کر دیتا ہے جو اگرچہ اخلاقاً اس کے لئے ضروری ہیں مگر اس کے نفس کو پسند نہیں آتیں۔ اس لئے جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اس کو اپنی زندگی میں شکست و ریخت کا ایک مستقل عمل جاری کرنا پڑتا ہے۔ بہت سی چیزیں جو اس کو پچھلی زندگی میں نہایت عزیز تھیں، انہیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیتا ہے، اور بہت سی چیزیں جن سے اسے نفرت تھی، جن سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح ایمان لانے کے بعد غلط جذبات، غلط تعلقات اور غلط اعمال سے جُدائی کی ایک مستقل مہم شروع ہو جاتی ہے۔ زندگی کے تمام معاملات میں ناجائز طریقوں سے بچنے کا ایک پیہم عمل کرنا ہوتا ہے جو موت کی آخری گھڑی تک جاری رہتا ہے۔ یہ ہجرت کی پہلی اور ابتدائی قسم ہے جو ماضی کے غلط عادات و اطوار سے اپنے کو پاک کرنے اور آئندہ اس طرح کی کوئی چیز قبول نہ کرنے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس ہجرت کا ذکر قرآن میں سورہ مدثر میں کیا گیا ہے جو نبوت کے بالکل ابتدائی زمانہ کی سورت ہے۔ فرمایا: وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (74:5) یعنی، گندگی سے ہجرت کر۔ یعنی، خیال اور عمل کی تمام برائیوں کو چھوڑ دے۔ یہی بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل الفاظ میں واضح فرمائی ہے: اَلْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 10)۔ یعنی، مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ یہ ہجرت الی اللہ کا ایک پہلو ہے جس میں آدمی کو تمام ناجائز چیزیں چھوڑ دینی ہوتی ہیں۔ خدا کی مرضی کے مطابق بننے کے لیے ان چیزوں سے اپنے کو پاک کرنا ہوتا ہے جو خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page