Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

جہاد

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ ہر حال میں اپنے لئے لذت اور آرام کو پسند کرتا ہے، اس کو ہمیشہ آسانی کی تلاش رہتی ہے، وہ عزت اور برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے بلکہ جدھر اس کا جی چاہتا ہے اس طرف نکل جاتا ہے۔ یہ جذبہ اس کو اکساتا ہے کہ ہر وہ کام کرے جس سے اس کی ان خواہشوں کو تسکین ملتی ہو اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے اس کی ان خواہشوں پر ضرب پڑے۔ اور طاغوت سے مراد خارج کا وہ غلط اقتدار ہے جو ماحول کی روایات ، وقت کے نظریات اور عوام الناس کی خواہشوں کی صورت میں آدمی کے اوپر دباؤ ڈالتا ہے اور جس کی انتہائی شکل وہ حکومتی تنظیم ہے جو غیر الہی بنیادوں پر کھڑی کی گئی ہو۔ یہ خارجی قوتیں براہِ راست بھی مزاحمت کرتی ہیں اور بالواسطہ بھی۔ بالواسطہ اس طرح کہ سوسائٹی پر عملاً قابض ہونے کی وجہ سے زندگی کے تمام گوشوں میں انہی کے نظریات پھیل جاتے ہیں۔ انسان کے لئے اس کے سوا کوئی شکل نہیں ہوتی کہ ان کو مانے اور اپنے آپ کو ان سے ملوث کرے ، اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا اور براہِ راست اس لیے کہ اس طرح کے ایک ماحول میں حق پر چلنے کا ارادہ ان قوتوں کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، وہ رائج الوقت نظام کے لئے موت کی پیشین گوئی ہے۔ اس لیے جو لوگ اس قسم کی تحریک لے کر اٹھتے ہیں وہ ان کو روکنے اور ان کو کچل دینے کے لیے اپنا پورا زور صرف کرتی ہیں اور اپنے دائرہ میں ان کو زندگی کے مواقع سے محروم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ان حالات میں جب کوئی شخص خدا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کو اپنے اندر سے لے کر باہر تک ، خیالات سے لے کر عمل کی دنیا تک، قدم قدم پر بے شمار رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کہیں آرام کے مقابلہ میں تکلیف کو گوارا کرنا ہوتا ہے، کہیں ایک لذیذ رجحان کو چھوڑنے اور ایک خشک عقیدہ کو قبول کرنے کے لیے کش مکش کرنی ہوتی ہے، کہیں ملتے ہوئے ناجائز فائدوں کے ڈھیر کے بجائے ایک حقیر حاصل پر آمادہ ہونے کے لیے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page