Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

جہاد

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ سے زبردستی کرنی پڑتی ہے، کہیں عزت اور ناموری کے بجائے گم نامی اور ذلت پر قانع ہونے کے لیے مجاہدہ کرنا ہوتا ہے کہیں جائز حقوق اور اپنے واقعی مفادات سے محرومی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ غرض اس کے سامنے دو مختلف راہیں کھلی ہوتی ہیں۔ اور اس کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ جدھر چاہے چلا جائے۔ ایک طرف جانے میں دنیا کی ہر چیز ملتی ہوئی نظر آتی ہے اور دوسری طرف جانے میں بظاہر کچھ بھی ملتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا نفس مجبور کرتا ہے کہ آسان راستہ کی طرف جائے۔ خارجی قوتیں اس مقصد کے لیے اپنا پورا وزن اس کے اوپر ڈال دیتی ہیں۔ مگر وہ ان ساری مزاحمتوں کے باوجود آسان اور پر لطف راستہ کو چھوڑ دیتا ہے اور کھینچ کر اپنے کو مشکل راستہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی کش مکش کا نام جہاد ہے۔ جس چیز کو ہم سیاسی انقلاب کہتے ہیں وہ بھی اسی کش مکش کا ایک قدرتی نتیجہ ہے جس کے بعد ماحول پر اسلام کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سیاسی انقلاب بر پا کرنا اسلام کا اصل مقصود ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ تنقید نہیں بلکہ ذریعہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مسلسل عمل کا آخری انجام ہے۔ اسلام کے مطابق ، جینے اور مرنے کا ارادہ جو ابتداء قلب کے اندر پیدا ہوتا ہے وہ جب عمل کی صورت اختیار کرتا ہے اور ذہن سے نکل کر ماحول میں پھیلنا شروع ہوتا ہے تو اسی پھیلاؤ کے ایک مخصوص دائرہ کو ہم اسلامی انقلاب کہتے ہیں۔ انقلاب کو مصنوعی درخت کی طرح اگایا نہیں جاسکتا اور نہ اس کو بوریوں میں بھر کر کہیں باہر سے لایا جاتا ہے بلکہ وہ ایک عمل کے طبعی نتیجہ کے طور پر خود اپنی زمین سے ابھرتا ہے۔ جس طرح انڈے کے اندر ایک زندہ بچہ کا وجود یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک روز اوپر کا خول ٹوٹ جائے اور جیتا جاگتا بچہ اس کے باہر آچائے۔ ٹھیک اسی طرح مخالف ماحول کے اندر ایک اسلامی گروہ کی موجودگی اس کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ اگر یہ گروہ اپنے ایمان میں مخلص ہے اور عقیدہ کو عمل کی شکل دینے کا سچا عزم رکھتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر آن باطل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page