Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

جہاد

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کی دیوار کو متزلزل کر رہا ہے، ایسا ایک گروہ لازمی طور پر دیوار کو توڑ دے گا۔ وہ اس کے اندر نہیں ٹھہر سکتا۔ جہاد ہر اس رکاوٹ سے لڑنے اور اس سے کش مکش کرنے کا نام ہے جو دین پر عمل کرنے کے سلسلہ میں پیش آئے اور چونکہ یہ رکاوٹ انسان کے اندر سے بھی ہوتی ہے اور باہر سے بھی اس لیے جہاد میں آدمی کبھی خود اپنے نفس کے بالمقابل ہوتا ہے اور کبھی خارجی دنیا سے کش مکش کرتا ہے۔ اس کو کبھی خود اپنی خواہشوں سے لڑنا پڑتا ہے، کبھی زبان سے دوسروں کے طرز عمل پر گرفت کرنی ہوتی ہے اور کبھی ہاتھ کی قوت سے راہِ حق کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جَاهِدُوا أَهْوَاءَكُمْ كَمَا تُجَاهِدُونَ أَعْدَاءَكُمْ (مفردات القرآن للاصفهانی، صفحه 208)۔ یعنی، اپنی خواہشوں سے جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمنوں سے جہاد کرتے ہو۔ راغب اصفہانی نے حدیث رسول کی روشنی میں کہا: اِلْمُجَاهَدَةُ تَكُوْنُ بِالْيَدِ وَاللِّسَانِ (مفردات القرآن، بیان "جہد")۔ یعنی، مجاہدہ ہاتھ اور زبان دونوں سے ہوتا ہے۔ مگر جہاد اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے صرف کسی ظاہری عمل کا نام نہیں ہے بلکہ اس مخصوص کیفیت کا نام ہے جو کسی عمل کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے۔ ظاہری شکلیں اسی کیفیتِ جہاد کو پیدا کرنے کے لئے ہیں، نہ کہ خود ان ظاہری شکلوں کا نام جہاد ہے۔ ایک شخص رات دن کی کوشش سے اسلام پر ایک اعلیٰ درجہ کی کتاب لکھتا ہے۔ بظاہر یہ جہاد کی ایک شکل ہے لیکن اس کا مقصد اگر یہ ہے کہ اس کتاب سے اس کی شہرت ہوگی یا اس کو مالی فوائد حاصل ہوں گے تو اس کے اس عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں وہ جہاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page