Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

جہاد

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کہے جانے کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے برعکس کوئی نیک کام کرتے ہوئے جب اس کے دل میں ایک غلط خیال گزرتا ہے اور اس تصور سے وہ کانپ اٹھتا ہے کہ اس طرح اس کا سارا کیا کرایا مٹی ہو جائے گا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں اور بے اختیار وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا! مجھے شیطان کے حوالے نہ کرو رنہ میں تباہ ہو جاؤں گا۔ تو یہ جہاد ہے۔ یہ بات صرف جہاد ہی سے متعلق نہیں ہے بلکہ دوسری عبادت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ دین میں جو کام بھی کرنے کے لیے بتائے گئے ہیں وہ محض اپنی شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہیں بلکہ حقیقت کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ جن اذکار اور دعاؤں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن عبادات کے ادا کرنے کو فرض قرار دیا گیا ہے، جن اخلاق واعمال کو یہ اہمیت دی گئی ہے کہ ان کو اختیار کیے بغیر سرے سے دعوائے ایمان ہی معتبر نہیں ہوتا۔ ان سب کا مطلب دراصل یہ بتانا ہے کہ خدا پرستانہ زندگی کے مظاہر کیا ہوتے ہیں، نہ یہ کہ کن مظاہر کا نام خدا پرستی ہے۔ اصل میں خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ یہ نہیں ہے کہ زبان سے اس کے لیے چند تعریفی کلمات کا ورد کر لیا جائے، نماز روزہ اور حج کے نام پر کچھ مخصوص عبادتی افعال انجام دے دیے جائیں۔ مال میں سے ایک مقررہ حصہ نکال کر غریبوں میں بانٹ دیا جائے۔ یا زبان و قلم کے ذریعہ سے خدا کے دین کی تبلیغ کر دی جائے۔ بے شک یہی وہ اعمال ہیں جو خدا پرستانہ زندگی کے لیے لازمی پروگرام کی حیثیت رکھتے ہیں اور خدا پر ایمان جب بھی انسانی زندگی میں ظہور کرے گا وہ انھیں شکلوں میں ظہور کرے گا۔ ان کے ظاہر ہونے کا کوئی اور قالب اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا ہے۔ مگر ان خارجی شکلوں کے پیچھے وہ اصل چیز جو خدا کو مطلوب ہے اور جس کی موجودگی کسی آدمی کو اس بات کا مستحق بناتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اسے حاصل ہوں ۔ وہ دراصل دل کی یہ اندرونی کیفیت ہے کہ آدمی کے جذبات و خیالات بالکل خدا کی مرضی کے تابع ہو جائیں۔ اس کو وہی چیز پسند ہو جس کو خدا پسند

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page