جہاد
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتا ہے اور وہی چیز ناپسند ہو جس کو خدا ناپسند کرتا ہے۔ جو چیز خدا کی مرضی کے خلاف ہو اس کا وہ دشمن بن جائے اور جو چیز خدا کو محبوب ہو اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنا آخری سرمایہ تک قربان کر دے۔ یہ ہیں اسلام کے تقاضے جن کو پورا کرنے یا نہ کرنے پر ہمارے مستقبل کا انحصار ہے۔ ایک شخص جو اس حقیقت کو جان چکا ہو کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے اور پھر جو اس واقع پر بھی ایمان لایا ہو کہ آخرت کا ایک عظیم دن آنے والا ہے۔ جب پوری نسل انسانی خدا کی عدالت میں کھڑی کی جائے گی تو اس کی خواہش اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ قیامت کے اس ہولناک دن، جب وہ مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہو تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے جو دنیا کی زندگی میں میرا وفادار رہا۔ مگر یہ کھلی بات ہے کہ یہ مقام کسی کو محض خواہش کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی معمولی حکومتوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی شخص کو وفاداری کا سرٹیفیکیٹ صرف اس وقت دیتی ہیں کہ وہ اس کا دین، اخلاق اور ضمیر سب کچھ اس سے خرید لیتی ہیں۔ پھر خدا جو تمام حاکموں کا حاکم ہے، جو بے حد غیرت مند ہے، جو اپنی خدائی میں کسی کی معمولی شرکت بھی گوارا نہیں کرتا۔ وہ کیا محض دل کی ایک خواہش یا زبان کی حرکت سے خوش ہو جائے گا اور کسی کو محض اس بنا پر وفاداری کا اعزاز بخش دے گا کہ وہ ایسا چاہتا ہے، خواہ اس نے اپنی وفاداری کو عملاً اس کے لیے خاص کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری تمام وفاداریوں کی طرح خدا کا وفادار بننے کی خواہش بھی ایک عظیم جد و جہد کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کے اداروں میں کسی کی اہمیت صرف اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب وہ اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دے۔ ایک دکان اپنے اندر نفع کے امکانات کسی کے اوپر صرف اس وقت ظاہر کرتی ہے جب آدمی اپنا سب کچھ اسے دے دیتا ہے۔ حکومتوں کے نزدیک کوئی شخص صرف اسی وقت اعتماد اور احترام کا مستحق بنتا ہے جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader