Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

جہاد

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس کی نذر کر چکا ہو۔ ٹھیک اسی طرح اللہ تعالی کے یہاں بھی وفاداری کا مقام صرف اسے حاصل ہوتا ہے جو اپنی قربانیوں کے ذریعہ اس کا استحقاق ثابت کر دے۔ شرک نہ دنیا کے معبودوں کو پسند ہے اور نہ خدا کو۔ اس حقیقت کو سامنے رکھئے اور پھر اس دن کا تصور کیجئے جب ہم اور آپ اور تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کئے جائیں گے کہ ایک رب العالمین کے سوا سب کی آوازیں پست ہو چکی ہوں گی۔ جس دن آدمی اپنے سوا ہر ایک کو بھول جائے گا خواہ وہ اس کا دوست اور قریب ترین عزیز کیوں نہ ہو، جس دن صرف حق بات میں وزن ہو گا اور اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو چکی ہوں گی، جس روز آدمی حسرت کرے گا کہ کاش اس نے اپنی ساری عمر صرف آج کی تیاری میں صرف کر دی ہوتی۔ یہ فیصلہ کا دن ہوگا، ہمارے درمیان اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ وہ موت جس کے متعلق کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب آئے گی۔ آج جو لمحات ہم گزار رہے ہیں اس کے ہر لمحہ کا انجام ہم کو آئندہ کروڑوں سال تک بھگتنا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لیے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ زندگی کی مثال ایک ڈھلوان کی ہے جس پر سارے انسان نہایت تیزی کے ساتھ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقدر ہے۔ ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں۔ ایسے چند دن جن کا انجام کروڑوں اور اربوں سال نہیں بلکہ ابد الايام تک بھگتنا پڑے گا۔ جس کا آرام بے حد خوش گوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد درد ناک۔ ہر بار جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ آپ کی عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے۔ اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں۔ ہماری زندگی کی مثال برف بیچنے والے دکان دار کی ہے جس کا اثاثہ ہر لمحہ پگھل کر کم ہوتا جا رہا ہو اور جس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page