Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

اسلام ایک عظیم جدوجہد

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی حقیقت کو اگر کسی ایک لفظ سے تعبیر کرنا ہو تو اس کے لئے قربانی سے زیادہ موزوں اور کوئی لفظ نہیں ہوسکتا۔ اسلام دراصل ایک زبردست جدوجہد ہے۔ وہ قربانی کا ایک مسلسل عمل ہے جو ایمان لانے کے بعد سے آدمی کی موت تک جاری رہتا ہے۔ سب سے پہلی قربانی آدمی اس وقت دیتا ہے جب وہ اپنے پسندیدہ خیالات اور قلبی رجحانات کو خیرباد کہہ کر دینِ حق کو قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد دوسری قربانی وہ ہے جو عمل کی دنیا میں دی جاتی ہے۔ اخلاق و معاملات اور معیشت و تمدن میں وہ ان طریقوں کو چھوڑ دیتا ہے جو خدا کو ناپسند ہیں اور ان طریقوں کو اختیار کرلیتا ہے جو خدا کو محبوب ہیں۔ پھر جب وہ ان دونوں مرحلوں کو پار کرلیتا ہے تو وہ امتحان کے اس آخری میدان میں پہنچ جاتا ہے جہاں نہ صرف حرام چیزیں بلکہ زندگی کے جائز اثاثے بھی چھوڑ دینے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی جان بھی قربان کر دینی پڑتی ہے۔ یہ جان کی قربانی اس سلسلہ امتحان کی تکمیل ہے اور عہد بندگی کو آخری طور پر ثابت کر دکھانا ہے جو ایمان لاکر آدمی نے اپنے رب سے کیا تھا۔ یہ تین دور جن سے گزر کر آدمی اپنے رب تک پہنچتا ہے اور اس کی رضا کا مستحق بنتا ہے۔ ان کو قرآن میں ۔ ایمان، ہجرت اور جہاد کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمایا: اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ ۚ وَاُوْلٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُوْنَ (9:20) ۔ یعنی، جو لوگ ایمان لائے جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جانوں اور مالوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا ان کے لئے خدا کے یہاں بڑا درجہ ہے اور یہی لوگ دراصل کامیاب ہیں۔ اس آیت میں ایمان سے مُراد حقائق کو تسلیم کرنا ہے جو قرآن میں تلقین کئے گئے ہیں، اور ہجرت سے مُراد اس بات کی جدوجہد ہے کہ جس عقیدہ نے آدمی کے دل کے اندر جگہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page